کراچیwedsلاہور

از اویس احمد
قسط #1

رات کے 8 بج چکے تھے جب وہ لائیبریری سے نکلی پہلے وہ کبھی اتنی دیر تک باہر نہیں رہی تھی چاہے لندن کی سڑکوں پر لوگوں کا رش ہی کیوں نہ ہو وہ پھر بھی دن ڈھلنے سے پہلے اپنے فلیٹ میں پہنچ جاتی تھی مگر آج اسے کچھ زیادہ ہی دیر ہو گئی تھی وہ بغل میں اپنی کتابیں دبائے جلدی جلدی قدم بڑھا رہی تھی اسکی رفتار اس قدر تیز تھی کہ وہ بس ایک نظر سامنے دیکھتی اور پھر اگلی نظر اسکی زمین پر ہوتی اور حادثے کو ایک لمحہ ہی چاہئیے ہوتا ہے جیسا کہ ہوا وہ نظریں جھکائے اپنی رفتار میں چلتی جا رہی تھی کہ اچانک ہی وہ کسی سے ٹکرا گئی اور اسکی کتابیں زمین بوس ہو گئیں وہ جلدی سے اپنی کتابیں سمیٹنے زمین پر بیٹھ گئی وہ کتابیں سمیٹ ہی رہی تھی کہ ہلکی سی آواز اسکے کان میں پڑی۔۔۔
“ایم سوری”
جیسے ہی اس نے سوری کا لفظ سنا مانو اسکے اندر کی شیرنی جاگ اٹھی اور بنا دیر کئے وہ اس پر برس پڑی۔۔۔
“ابے اوئے دکھائی نہیں دیتا کیا۔۔۔اگر رات میں نظر نہیں آتا تو باہر کیوں نکلتے ہو ہاں۔۔۔اچھا ہے ماں باپ کا پیسہ تو برباد کرتے ہی ہو پر دوسروں کو تو چین سے رہنے دو”
(جی تو یہ ہیں مس پارس اور پیار سے سب انہیں پارو بلاتے ہیں یہ پاکستان سے فیشن ڈیزائینر کا کورس کرنے آئی ہیں مگر انہیں کتابیں پڑھنے کا اتنا شوق ہے کہ ہر وقت آپ کو انکے پاس کوئی نہ کوئی کتاب ملے گی۔یہ دُبلی پتلی سی لڑکی دکھنے میں معصوم لگتی ہے مگر جیسے اسکو لوگ ملتے ہیں یہ انکے ساتھ ویسا ہی سلوک کرتی ہے ان کا ماننا ہے کہ کچھ لوگ اچھائی سمجھتے ہیں اور کچھ لوگ برائی تو اپنے اندر دونوں ہی رکھو تاکہ جس کو جس کی ضرورت ہو آپ بر وقت انہیں مہیا کر سکیں۔اس کا تعلق سندھ کے شہر لاڑکانہ سے ہے۔12 بھائیوں کی اکلوتی بہن ہے۔پیار محبت اور شادی سے تو اسکو انتہا کی نفرت ہے اور یہ نفرت کیوں ہے آپ کو آگے پتا چلتا جائے گا۔)
“ایکسکیوز می کیا بولا ابھی آپ نے۔۔۔ دکھائی آپ کو نہیں دے رہا اور الٹا مجھے بول رہی ہیں واہ واہ عقل تو دیکھو زرا”
(جی تو یہ ہیں مسٹر اذان یہ آئے تو پاکستان سے فلم اور ٹی وی پڑھنے ہیں مگر انکا زیادہ وقت پارٹی کرنے اور باہر گھومنے میں صرف ہوتا ہے انہیں ڈیسینٹ دکھنے کا کوئی شوق نہیں ہے اس لئیے یہ اپنے پہناوے پر زیادہ توجہ نہیں دیتے یہ بس اپنی دھن میں رہتے ہیں انکا ماننا ہے کہ دنیا میں آپ اپنی زندگی جینے آئے ہیں دوسروں کی نہیں اس لئیے اپنے دل کی سنو اور وہی کرو جو یہ کہتا ہے۔لکھنے کا اتنا شوق ہے کہ ہر چیز میں کہانی ڈھونڈ لیتے ہیں جناب اور تواور بات کرنے کا انداز بھی ایسا ہے کہ جیسے کوئی ڈائیلاگ بول رہے ہوں۔انکا تعلق پنجاب کے شہر لاہور سے ہے۔2 بھائیوں میں یہ جناب پہلے نمبر پر ہیں۔مزید آپ انکے بارے میں آگے جانیں گے۔)
“ابے اوئے ایک تو غلطی کرتے ہو اوپر سے زبان لڑاتے ہو رکو میں ابھی پولیس کو فون کرتی ہوں”
پارس نے غصے میں اپنا فون نکالا اور نمبر ڈائل کرنے لگی کہ اذان نے ایک جھٹکے سے فون اسکے ہاتھ سے چھین لیا۔۔۔
“دماغ خراب ہے کیا تمہارا۔۔۔غلطی میری نہیں تھی پھر بھی میں نے سوری بولا اور کان کیا گھر رکھ کر آئی ہو جو سنائی نہیں دیا”
اذان کے فون چھینتے ہی وہ اور آگ بگولہ ہو گئی۔۔۔
“تم نے میرا فون چھینا کیسے ابھی بتاتی ہوں تمہیں تو میں”
پارس نے آؤ دیکھا نہ طاؤ اور اذان پر دھاوا بول دیا اور اذان کے بال اسکے ہاتھ میں آگئے اور اس نے زور سے کھینچے جس پر اذان کی چیخ نکل گئی اتنے میں ایک لڑکی نے پارس کی کمر پر ہاتھ ڈالتے ہی اسے اپنی طرف کھینچا۔۔۔
“ارے بس کرو پارو کیا ہو گیا ہے تمہیں”
(جی تو یہ ہیں سحر پارس کی کزن بھی اور بیسٹ فرینڈ بھی یہ دونوں ایک ہی کورس کے لئیے پاکستان سے آئی ہیں۔سحر پارس کے نیچر سے اچھی طرح واقف ہے اس لئیے یہ ہر جگہ اسکے ساتھ ہی رہتی ہے تاکہ یہ کسی بھی ناگہانی آفت سے پارس کو بچا سکے کیونکہ پارس کا ایک نام آفت بھی ہے”
“چھوڑ دو مجھے سحر میں اسے چھوڑوں گی نہیں اس نے میرے ہاتھ سے فون لیا تو لیا کیسے”
پارس نے اس قدر زور سے اذان کے بال کھینچے تھے کہ تکلیف کی وجہ سے اسکے چہرے کا رنگ بار بار بدل رہا تھا۔۔۔
“لے جائیں اس بلی کو یہاں سے اور کسی پنجرے میں بند کریں فضول میں چلتے پھرتے لوگوں کو پنجے مار رہی ہے”
“کیا بولا تم نے میں بلی گینڈے کہیں کے میں بتاتی ہوں تمہیں”
پارس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اذان کو کچا چبا جائے بڑی مشکل سے سحر نے اسے قابو کیا ہوا تھا۔۔۔
“بہت بد تمہیز ہو یار تم تو۔۔۔پلیز لے جائیں اسے یہاں سے ورنہ میرے ہاتھوں ضائع ہو جانا اس نے”
اذان نے سحر کے ہاتھ اسکا فون تھمایا اور ہاتھ جوڑتےہی وہاں سے نکل گیا۔۔۔
“جاتے کہاں ہو گینڈے کہیں کے تمہیں پتا نہیں ہے تم نے کس سے پنگا لیا ہے”
سحر تو جانتی تھی کہ یہ کہاں باز آنے والی ہے تو اس نے پارس کا ہاتھ تھامہ اور اسے کھینچتے ہوئے فلیٹ کی جانب روانہ ہو گئی اورمتواتر بڑبڑائے جا رہی تھی۔۔۔
💕💕💕💕💕
اذان اپنے اپارٹمنٹ پہنچ چکا تھا جہاں پہلے سے موجود آفاق یونیورسٹی کی طرف سے ملنے والی اسائینمنٹ کے لئے سکرپٹ لکھنے میں مصروف تھا۔(جی تو یہ ہیں آفاق آئے تو یہ بھی پاکستان سے ہی ہیں مگر ان جناب کی دوستی اذان سے یونیورسٹی میں ہی ہوئی یہ کرئیٹو رائیٹنگ کا کورس کرنے آئے ہیں انہیں کہانیاں لکھنا بہت پسند ہے مگر ابھی تک انہیں اپنی من پسند کہانی نہیں مل پائی اور آج کل یہ اذان کے ساتھ مل کر اپنی اسائینمنٹ بنانے میں مصروف ہیں جس میں کہانی یہ لکھیں گے اور اذان اسے ڈائریکٹ کرے گااور ایک اذان ہی یہ جو اسے پیار سے آفی بلاتا ہے).
اس نے جیسے ہی اذان کو بکھرے بالوں کے ساتھ بے سُدھ حالت میں دیکھا تو اسکی ہنسی نکل گئی۔
“ارے۔۔۔۔۔اذان یہ کیا ہوا یار تمہارے بال کیوں بکھرے ہوئے ہیں ایسا لگ رہا ہے جیسے کسی نے سر میں بم پھوڑ دیا ہو”
اذان نے بیڈ پر بیٹھتے ہی ایک گہری سانس لی اور اپنے جوتے اتارنے لگا۔
“بس یار آفی کچھ ایسا ہی سمجھ لو۔۔۔۔”
“کیا مطلب تمہارا؟ “
آفاق نے بڑے تعجب سے پوچھا۔۔۔
“ایک بلی سے ٹکرا گیا تھا بس اسی نے پنجے مار دئیے”
اذان کی بات سنتے ہی آفاق نے قہقہہ لگایا۔۔۔
“کیا۔۔۔واقعی۔۔۔بچت ہو گئی نا کہیں کوئی زخم تو نہیں آیا؟ ویسے بلی کا تعلق کہاں سے تھا جس نے بس بالوں پر حملہ کیا”
آفاق کی باتیں سن کر اذان بھی ہنسنے لگا۔۔۔
“تم بھی نا یار آفی کہاں سے کہاں پہنچ جاتے ہو۔۔۔یہ باتیں چھوڑو اور مجھے بتاؤ اسکرپٹ کا کام کہاں تک پہنچاپتا ہے نا یہ ہم نے ایک ہفتے میں پلے پرفارم کر کے دکھانا ہے”
“ہاں ہاں جانتا ہوں میں اسی پر کام کر رہا ہوں تم زرا فریش ہو جاؤ پھر تمہیں کہانی بتاتا ہوں جس پر کل تھوڑی پریکٹس بھی کر لیں گے”
“ہاں یہ ٹھیک ہے چلو میں آیا”
اسکی بات کی تائید کرتے ہی اذان وہاں سے اٹھا اور واشروم کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
💕💕💕💕💕
“تم نےمجھےکیوں پکڑا سحر اسے تو میں نے چھوڑنا نہیں تھاسمجھا کیا تھا اس نے وہ بچ جائے گا۔دوبارہ کہیں نظر آیا تو میں اسکا سر پھاڑ دینا ہے گینڈا کہیں کا. “
وہ اپنے فلیٹ میں تو پہنچ گئی تھی مگر اسکا دماغ ابھی تک وہیں اٹکا ہوا تھااسکا غصہ ٹھنڈا ہونے میں کچھ وقت لگتا ہے سحر اس بات سے باخوبی واقف تھی اس لئے وہ بات بدل رہی تھی کہ یہ زرا ٹھنڈی ہو جائے۔
“اچھا دفع کرو پارو جو ہو گیا سو ہو گیا۔اب تم اس بارے میں بات نہیں کرو گی۔تم شائید بھول رہی ہو ہم نے ایک ہفتے میں اپنی اسائینمنٹ جمع کروانی ہےاور ہم نے ابھی تک کوئی ڈیذائن تیار نہیں کیا”
سحر نے اسے اسائینمنٹ کے بارے میں یاد دہانی کرائی تب جا کر اسکا دماغ کچھ ٹھنڈا ہوا۔
“اوہ۔۔۔ہاں یار میں تو اس گنڈے کے چکر میں سب بھول ہی گئی تھی ایم سوری۔۔۔اچھا تم نے کچھ سوچا ہے؟ “
پارس کا دماغ واپس آیا تو سحر نے بھی شکر کیا ورنہ پوری رات اس نے وہی سوچتے رہنا تھا۔
“ہاں میں سوچا ہوا ہے پر اس کے لئے ہمیں کچھ چیزیں چاہئیے جو کہ صبح پہلے ہمیں لانی ہوں گی۔۔۔اور یہاں پاس میں جو پاکستانی مال ہے امید ہے وہاں سے سب مل جائے گا”
سحر نےپارس کو پوری بات سے آگاہ کر دیا تھا۔
“تو ٹھیک ہے پھر صبح ہم یونیورسٹی جانے سے پہلے وہ سب لے لیں گےکیا خیال ہے؟ “
پارس نے اپنی بات کی تائید چاہی جس پر سحر نے اثبات میں سر ہلاتے ہی جواب دیا۔۔۔
💕💕💕💕💕
اذان فریش ہو کر آفاق کے پاس بیٹھ چکا تھا اور آفاق اسے وہی سینز سنانے والا تھا جس پر انہوں نے صبح پریکٹس کرنی تھی کیونکہ کہانی ابھی پوری نہیں ہوئی تھی۔۔۔

“تو سنو اذان کل کا سین کچھ ایسا ہو گا کہ۔۔۔۔ہیرو۔۔۔ہیروئن کو دھوکے سے ایک جگہ بلائے گا اور جب ہیروئن وہاں پہنچ جائے گی تو وہ اسے اغواہ کر لے گا”
آفاق کا سین مزید سننے سے پہلےہی اذان نے اسے ٹوک دیا کیونکہ اسے کچھ الگ نہیں لگ رہا تھا۔۔۔
“ایک منٹ میری جان آفی۔۔۔یہ تُو کیا لکھ رہا ہےپہلے مجھےیہ بتا۔۔۔اگر وہ ہیرو ہے تو وہ ویلن کیوں ہے اور اگر وہ ویلن ہے تو پھر وہ ہیرو کیوں ہے”
اذان کی فلاسفی سنتے ہی آفاق اپنی ہنسی پر قابو نا رکھ سکا اور بے باک ہنسنےلگا۔۔۔
“یار اذان تم سن تو لو پہلے۔۔۔تم ہمیشہ ایسے ہی کرتےہو مجھےکہانی پوری تو کرنے دیا کرو”
“میں کیا سنُوں تم خود بتاؤ ایک ہی بندے کو تم ڈبل رول دے رہے ہو ہیرو کا بھی اور ویلن کا بھی۔۔۔ہاہاہاہا”
اذان کی بھی ہنسی تھمنے کو نہیں آرہی تھی۔پھر جب آفاق چپ ہو گیا تو اذان نے فیصلہ کیا اسکی بات سن لینی چاہئے۔
“اچھا آفی یار مزاق کر رہا ہوں سچ میں چلو اب نہیں بولوں گا میں تم سناؤ”
آفاق جانتا تھا کہ اذان مزاق کر رہا ہے اسی لئے وہ چپ ہو گیا تھا کیونکہ اذان مزاق کے بعد ہمیشہ آفاق کو منا لیتا تھا۔
“اچھا تو۔۔۔۔۔ہیرو۔۔۔۔۔ہیروئن کو دھوکے سے ایک جگہ پر آنے کو کہے گا اور جب ہیروئن وہاں پہنچ جائے گی تو ہیرو اسے اغواہ کر لے گااور ہیروئن اس بات سے بالکل بے خبر ہو گی کہ اسکے ساتھ کیا ہونے والا ہے جبکہ ہیرو۔۔۔ہیروئن آپس میں میاں بیوی ہیں۔۔۔۔۔”
یہ سین سنتے ہی اذان کی پھر ہنسی نکل آئی وہ بالکل سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ آفاق آخر کروانا کیا چاہتا ہے پھر بھی اس نے خود پر قابو پاتے ہوئے اپنا منہ بند رکھا اور آفاق کی بات کی تائید کی۔۔۔
“چلو ٹھیک ہے پھر کل ہم اسی پہ پریکٹس کریں گے مگر تم نے ہمارے ہیرو اور ہیروئن کو کال کر دی ہے کہ صبح پریکٹس سیشن ہے؟ “
“ہاں میں نے کال تو کر دی ہے مگر ایک مسئلہ ہےیار الینا تو آ جائے گی مگر ڈیوڈ کل آؤٹ آف سٹی جا رہا ہے اس لئے وہ نہیں آ پائے گا۔
آفاق کی بات سنتے ہی اذان کا موڈ بن گیا۔۔۔
“یہ کیا بات ہوئی یار پلے کا وقت ہی کتنا رہ گیا ہے اور اب یہ گورے نخرے کرنے لگے ہیں میں نے تمہیں کہا بھی تھا کہ کسی اپنے جیسے کو دیکھ لینا پر تم بھی نہیں مانے”
“یار پریشان کیوں ہوتے ہو بس کل کی ہی تو بات ہے چلو کل تم کر لینا ویسے بھی ڈاریکٹر صاحب کا بھی تو کچھ حق بنتا ہے”
آفاق نے اسے چھیڑا جس پر اذان ہنس دیا۔۔۔
“ہاں ہاں تم تو ایسا کہو گے ہی تمہاری کہانی جو پوری نہیں ہو رہی تھی گوروں کے بنا۔۔۔ہاہاہا”
“اب ایسی بھی بات نہیں ہے چلو پھر صبح دیکھتے ہیں”
💕💕💕💕💕
وہ مال پہنچ چکی تھیں جیسے کہ رات انہوں نے سوچا تھا۔انہیں کچھ زیورات کی ضرورت تھی کچھ موتی ستاروں کی جس سے وہ کپڑوں پر ڈیزائن بنا سکتی تھیں جنہیں دیکھ کر وہاں کے لوگ ہماری ثقافت کو جان سکتے اور سمجھ سکتے۔تو انہوں نے اپنا سفر شروع کر دیا جس جس چیز کی انہیں ضرورت تھی وہ باری باری اس دوکان پر جا رہی تھیں اور اچھے سے دیکھ کر ضرورت کے مطابق چیزیں خرید رہی تھیں۔لگ بھگ سب کچھ ہی وہ لے چکی تھیں بس چوڑیاں رہ گئیں تھیں انکا اگلا پڑاؤ چوڑیوں کی دوکان ہی تھا۔چوڑیاں سامنے دیکھتے ہی پارس کا چہرہ کِھل اٹھا اسے چوڑیوں کا مہندی کا نیل پالش کا اس قدر جنون تھا کہ اسکا کمرہ انہی چیزوں سے بھرا رہتا تھا۔۔۔دوکاندار ہر وہ چوڑی نکال کر دے رہا تھا جوجو وہ مانگ رہیں تھیں مگر پارس کو کوئی چوڑی فٹ ہی نہیں آرہی تھی سحر اپنے لئے لے چکی تھی مگر پارس کی تلاش اب بھی جاری تھی۔دوکاندار نے سارے سائز دکھا دئیے تھے مگر پارس کی کلائی اس قدر کمزور تھی کہ ہر سائز اسے بڑا ہی آرہا تھاسب سائز دیکھ لینے کہ بعد بھی جب اسے کوئی چوڑی فٹ نہیں آئے تو وہ دوکاندار پر ہی برس پڑی۔۔۔
“کیا بدتمیزی ہے یہ۔۔۔تمہارے پاس میرے سائز کی چوڑیاں ہی نہیں ہیں دوکان کیوں کھول رکھی ہے بند کرو اور جاؤ گھر۔۔کبھی تو کچھ رکھ لیا کرو پتا نہیں سارا دن یہاں کیا کرنے آتے ہیں سامان تو ہوتا نہیں۔۔۔”
پارس کی اتنی باتیں سننے کے بعد دوکاندار سے بھی کہاں رہا گیا اس نے بھی ہلکی سے سرگوشی کی مگر اسے کیا پتا تھا کہ پارس نے وہ سن لیاہے۔۔۔
“تو باجی آپ کچھ کھایا پیا کریں۔۔۔ہمیں تو سمجھ نہیں آتی آپ کی بازو ہے یا کوئی لکڑی کی چھڑی کوئی چوڑی فٹ ہی نہیں آتی”
پارس نے جیسےہی یہ سنا اسکا پارا اور ہائی ہو گیا اور سحر نے بامشکل اپنی ہنسی چھپائی۔۔۔
“کیا بولا تم نے۔۔۔۔بد تمیز کہیں کے منہ توڑ دینا میں نے تمہارا۔۔۔۔۔ایک تو دوکان کھول رکھی ہے اور سامان بھی نہیں ہے اوپر سے گاہکوں کے ساتھ زبان لڑاتے ہو”
پارس تو اب رکنے والی نہیں تھی اب اس بیچارے کو کیا پتا تھا کہ اس نے کسے چھیڑ دیا ہے مگر سحر اپنا فرض پورا کرتےہوئے پارس کو بامشکل وہاں سے لےگئی مگر ایک بات ہو گئی تھی پارس کو غصہ آچکا تھا اور اب کوئی گارنٹی نہیں تھی کہ وہ کس پر نکلتا ہے۔سحر تو پورے راستےدعا کرتی جا رہی تھی کہ اب یونیورسٹی میں نہ کچھ ہو جائے۔۔۔
💕💕💕💕💕
اذان اور اسکی ٹیم اوڈیٹوریم میں پہنچ چکی تھی رہرسل کے لئے آفاق الینا کو سیچوایشن سمجھا رہا تھا اور اسے بتا رہا تھا کہ اس نے کیسے پرفارم کرنا ہے آج ڈیوڈ نہیں تھا تو اذان اسکی جگہ پرفارم کرنے والا تھا وہ چاہتے تھے الینا کی پرفارمنس اچھی ہو جائے ڈیوڈ پہلے بھی اچھے سے اپنا کام کر رہا تھا اب سین سٹارٹ ہونے والا تھا سب نے اپنی اپنی جگہ لے لی تھی آفاق کے ایکشن کہتےہی اذان الینا کی طرف بڑھا اور اسکےدونوں ہاتھ پکڑ کر اسکی آنکھوں میں دیکھتےہوئے ڈائیلاگ بولنےہی لگا تھا کہ الینا ہنس پڑی۔۔۔اذان اسی وقت پیچھےہو گیا۔۔۔آفاق نےالینا کو دوبارہ سمجھایا اور پھر ایکشن کے بعد سین سٹارٹ ہوا مگر الینا نےپھر وہی حرکت کی جب تیسری بار بھی الینا نےیہی حرکت کی تو اذان کو غصہ آگیا اور وہ آفاق پہ بھڑک گیا۔۔۔
“کیا یار آفاق ایسےکیسےچلے گا یہ کوئی مزاق ہو رہاہےکیا سمجھاؤ اسے”
آفاق نےالینا سےبات کی تو اس نے کہا۔۔۔
“تم سب لوگ یہاں ہو اس لئے میری ہنسی نکل رہی”
تو آفاق نے اپنی ٹیم کو کہا کہ سب پردےکےپیچھے ہو جائیں انہیں ایک بارایسےہی رہرس کرنے دو پھر دیکھتےہیں اسکے ساتھ ہی سب پردےکے پیچھے چلےگئے اور آفاق بھی ایکشن کہتےہی پیچھےہو گیا۔۔۔
💕💕💕💕💕
وہ دونوں بھی یونیورسٹی پہنچ چکی تھیں مگر پارس کا غصہ ابھی تک ٹھنڈا نہیں ہوا تھا تو سحر نے فیصلہ کیا کہ کچھ دیر اوڈیٹوریم میں بیٹھتے ہیں پھر کلاس کا رُخ کریں گے اسکے ساتھ ہی انہوں نے اوڈیٹوریم کی راہ لی۔۔۔
💕💕💕💕💕
سین سٹارٹ ہو چکا تھا۔۔۔اذان الینا کے دونوں ہاتھ پکڑے اسکی انکھوں میں دیکھتےہوئے اپنے ڈائیلاگز بول رہا تھا۔۔۔
“تم مجھ سےکتنا پیار کرتی ہو؟ “
“میں آپ سے بے انتہا پیار کرتی ہوں آپ کےلئے اپنی جان بھی دے سکتی ہوں”
“اچھا تو تم میرے لئیےاپنی جان بھی دے سکتی ہو؟ “
“ہاں بالکل میں آپ کےلئیےاپنی جان بھی دے سکتی ہوں”
اسکےساتھ ہی اذان نے پستول نکالی اور الینا کے ماتھے کو نشانہ بناتےہوئے اس پر رکھ دی۔۔۔۔
“تو پھر آج مجھےتمہاری جان چاہئیے”
اذان اپنے کردار کو باخوبی نبھا رہا تھا اور الینا بھی اسکا پورا پورا ساتھ دےرہی تھی۔۔۔۔۔اذان کے پستول نکالتےہی الینا گھبرا گئی اور اس نے چیخ مار دی اسکے ساتھ ہی وہ مدد کے لئیے پکارنے لگی”
“یہ آپ کیا کر رہےہیں پلیز ایسا مت کریں میں آپ کی بیوی ہوں مجھےکیوں مار رہےہیں”
اذان وہشیانہ انداز میں ہنسنے لگا۔۔۔۔۔
یہ سارا سین چل ہی رہا تھا کہ پارس اور سحر بھی وہاں پہنچ گئیں ان دونوں کو یہ ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ اذان بھی اسی یونیورسٹی میں پڑھتاہے۔۔۔۔۔پارس نے جیسےہی اذان کو دیکھا اور اسکےہاتھ میں وہ پستول اور اس لڑکی کو جو مظلوم بنی کھڑی تھی اسےلگاکہ یہ کچھ غلط کر رہا ہے اس نے بنا دیر کئیے اذان کی طرف دوڑ لگا دی اسی دوران اسے وہیں پہ پڑا ہوا ایک ڈنڈا بھی نظر آ گیا اس نے اسے اپنے ہاتھوں میں لیا اور چیختی چلاتی اذان کی طرف بڑھنے لگی۔۔۔۔
“گینڈے کہیں کے تمہیں تو میں چھوڑوں گی نہیں تم ہماری یونیورسٹی میں یہ سب کیا کر رہے ہو”
اذان نے جیسے ہی پارس کو ڈنڈا اٹھائے اپنی طرف بڑھتے دیکھا وہ ایک دم گھبرا گیا اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا وہ اسکے سر پر آن پہنچی تھی اس نے بنا دیر کئیے اسکے سر میں ایک ڈنڈا رسید کر دیا اذان کے سر میں ڈنڈا پڑتے ہی وہ زمین بوس ہو گیا۔۔۔۔۔

💕💕💕💕💕

جاری ہے۔۔۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.